Tuesday, 19 September 2017

Markeeting

مارکیٹنگ میں ظاہری شکل و حالت یعنی فزیکل اپیرنس سے زیادہ نفسیاتی اثرات پہ توجہ دی جاتی ہے۔ اپنی چیز کی مارکیٹنگ کے لئیے کسٹمر کی نفسیات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ سیزنل سیلز اور ڈسکاونٹ وغیرہ اس چیز کی مثالیں ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہماری ایسوسی ایشن کے ریٹ فائنل کرنے والے بھی نفسیاتی پہلووں پہ توجہ دیں۔
سستا اس وقت ہی ہوگا جب کسٹمر کو مہنگا دیکھایا اور مہنگے کا عادی بنایاجاے گا۔ 80 روپے ریٹ 100 روپے کے مقابلے یقینا سستا ہے۔ مگر جب زیادہ دنوں تک 80 رہے گا تو پھر وہ سستا نہیں سٹینڈرڈ ریٹ بن جاتا ہے۔
 آج کل لاہور پھٹے پہ 120 روپے گوشت ریٹ لگا ہوا ہے مگر سیل ڈیڈ ہے۔مگر پرسوں ایک دوست سے پتہ چلا کہ اس شدید مندے کے دور میں ایک پھٹے والے نے 120 گوشت ریٹ کے مقابلے 100 روپے گوشت ریٹ لگا کر 6 گھنٹوں میں 1200 کلو وزن سیل کردیا۔
 مطلب 120 کے مقابلے میں 100 سستا تھا کیوئکہ پچھلے کچھ دنوں میں رہنے والے ٹرینڈ کی وجہ سے 120 سٹینڈرڈ ریٹ بن چکا ہے۔ اگر پھٹے پہ اس سے پہلے 140 روپے گوشت ریٹ لگا ہوتا اور کسٹمر 140 میں برائلر گوشت خرید کرنے کا عادی ہوچکا ہوتا تو 120 پہ بھی اسکا وہ ہی رویہ ہوتا جو اس نے 120 کے مقابلے میں 100 روپے ریٹ پہ کیا۔
 ریٹ جب بھی اور کسی بھی چیز کا زیادہ وقت کیلئیے ایک جگہ پہ رہے گا وہ ہی معیار بن جاتا ہے اور وہ ہی مہنگائی یا سستے کا پیمانہ قرار پاتا ہے۔
 80 روپے پہ فارم ریٹ زیادہ دن رکھیں گے تو آپ کو آہستہ آہستہ 80 روپے سے 10-12 روپے لیس دینا پڑے گی۔
 80 کو فارم ریٹ کی انتہائی سستی حد رہنے دیں معیار نہ بنا دیں۔
 ریٹ بنانا اور اسکو ٹھیک سے مارکیٹ کے مطابق چلانا پوری ایک سائنس ہے
 مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اسکو scientifically دیکھنے اور چلانے کی نہ تو عادت نہ ہی کوئی کوشش کی جاتی ہے

No comments:

Post a Comment

mujy q nikala

Mujy q nikala